سلسلہ میرے سفر کا کبھی ٹوٹا ہی نہیں

سلطان اختر

سلسلہ میرے سفر کا کبھی ٹوٹا ہی نہیں

سلطان اختر

MORE BYسلطان اختر

    سلسلہ میرے سفر کا کبھی ٹوٹا ہی نہیں

    میں کسی موڑ پہ دم لینے کو ٹھہرا ہی نہیں

    خشک ہونٹوں کے تصور سے لرزنے والو

    تم نے تپتا ہوا صحرا کبھی دیکھا ہی نہیں

    اب تو ہر بات پہ ہنسنے کی طرح ہنستا ہوں

    ایسا لگتا ہے مرا دل کبھی ٹوٹا ہی نہیں

    میں وہ صحرا جسے پانی کی ہوس لے ڈوبی

    تو وہ بادل جو کبھی ٹوٹ کے برسا ہی نہیں

    ایسی ویرانی تھی در پہ کہ سبھی کانپ گئے

    اور کسی نے پس دیوار تو دیکھا ہی نہیں

    مجھ سے ملتی ہی نہیں ہے کبھی ملنے کی طرح

    زندگی سے مرا جیسے کوئی رشتہ ہی نہیں

    RECITATIONS

    سلطان اختر

    سلطان اختر

    سلطان اختر

    سلسلہ میرے سفر کا کبھی ٹوٹا ہی نہیں سلطان اختر

    مأخذ :
    • کتاب : intesaab (Pg. 27)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY