ستارے چاہتے ہیں ماہتاب مانگتے ہیں

عباس رضوی

ستارے چاہتے ہیں ماہتاب مانگتے ہیں

عباس رضوی

MORE BY عباس رضوی

    ستارے چاہتے ہیں ماہتاب مانگتے ہیں

    مرے دریچے نئی آب و تاب مانگتے ہیں

    وہ خوش خرام جب اس راہ سے گزرتا ہے

    تو سنگ و خشت بھی اذن خطاب مانگتے ہیں

    کوئی ہوا سے یہ کہہ دے ذرا ٹھہر جائے

    کہ رقص کرنے کی مہلت حباب مانگتے ہیں

    عجیب ہے یہ تماشا کہ میرے عہد کے لوگ

    سوال کرنے سے پہلے جواب مانگتے ہیں

    طلب کریں تو یہ آنکھیں بھی ان کو دے دوں میں

    مگر یہ لوگ ان آنکھوں کے خواب مانگتے ہیں

    یہ احتساب عجب ہے کہ محتسب ہی نہیں

    رکاب تھامنے والے حساب مانگتے ہیں

    ستون و بام کی دیوار و در کی شرط نہیں

    بس ایک گھر ترے خانہ خراب مانگتے ہیں

    مآخذ:

    • Book : Ghazal Calendar-2015 (Pg. 11.09.2015)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY