ستم ہے دل کے دھڑکنے کو بھی قرار کہیں

وحیدہ نسیم

ستم ہے دل کے دھڑکنے کو بھی قرار کہیں

وحیدہ نسیم

MORE BY وحیدہ نسیم

    ستم ہے دل کے دھڑکنے کو بھی قرار کہیں

    تمہارے جبر کو اپنا ہی اختیار کہیں

    سکوں وہی ہے جسے چارہ گر سکوں کہہ دیں

    کہاں یہ اذن کہ کچھ تیرے بے قرار کہیں

    چھپائیں داغ جگر پھول جتنا ممکن ہو

    کہیں نہ اہل نظر ان کو دل فگار کہیں

    فضا ہے ان کی چمن ان کے آشیاں ان کے

    خزاں کے زخم کو جو غنچۂ بہار کہیں

    پئے ہیں اشک ہزاروں تو لب پہ آئی ہے

    وہ اک ہنسی کہ جسے فرض ناگوار کہیں

    اندھیری شب میں جلیں گے چراغ بن بن کے

    وہ نقش پا کہ جنہیں راہ کا غبار کہیں

    سمجھ سکے گا وہاں کون راز میخانہ

    نسیمؔ تشنہ لبی کو جہاں خمار کہیں

    مآخذ:

    • Book: Karwaan-e-Ghazal (Pg. 479)
    • Author: Farooq Argali
    • مطبع: Farid Book Depot (Pvt.) Ltd (2004)
    • اشاعت: 2004

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites