سخن جو اس نے کہے تھے گرہ سے باندھ لیے

فاضل جمیلی

سخن جو اس نے کہے تھے گرہ سے باندھ لیے

فاضل جمیلی

MORE BYفاضل جمیلی

    سخن جو اس نے کہے تھے گرہ سے باندھ لیے

    خیال اسی کے تھے سو سو طرح سے باندھ لیے

    وہ بن سنور کے نکلتی تو چھیڑتی تھی صبا

    پھر اس نے بال ہی اپنے صبا سے باندھ لیے

    ملے بغیر وہ ہم سے بچھڑ نہ جائے کہیں

    یہ وسوسے بھی دل مبتلا سے باندھ لیے

    ہمارے دل کا چلن بھی تو کوئی ٹھیک نہیں

    کہاں کے عہد کہاں کی فضا سے باندھ لیے

    وہ اب کسی بھی وسیلے سے ہم کو مل جائے

    سو ہم نے اپنے ارادے دعا سے باندھ لیے

    میں اک تھکا ہوا انسان اور کیا کرتا

    طرح طرح کے تصور خدا سے باندھ لیے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    فاضل جمیلی

    فاضل جمیلی

    RECITATIONS

    فاضل جمیلی

    فاضل جمیلی

    فاضل جمیلی

    سخن جو اس نے کہے تھے گرہ سے باندھ لیے فاضل جمیلی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY