سورج ہوں زندگی کی رمق چھوڑ جاؤں گا

اقبال ساجد

سورج ہوں زندگی کی رمق چھوڑ جاؤں گا

اقبال ساجد

MORE BY اقبال ساجد

    سورج ہوں زندگی کی رمق چھوڑ جاؤں گا

    میں ڈوب بھی گیا تو شفق چھوڑ جاؤں گا

    تاریخ کربلائے سخن! دیکھنا کہ میں

    خون جگر سے لکھ کے ورق چھوڑ جاؤں گا

    اک روشنی کی موت مروں گا زمین پر

    جینے کا اس جہان میں حق چھوڑ جاؤں گا

    روئیں گے میری یاد میں مہر و مہ و نجوم

    ان آئنوں میں عکس قلق چھوڑ جاؤں گا

    وہ اوس کے درخت لگاؤں گا جا بہ جا

    ہر بوند میں لہو کی رمق چھوڑ جاؤں گا

    گزروں گا شہر سنگ سے جب آئنہ لیے

    چہرے کھلے دریچوں میں فق چھوڑ جاؤں گا

    پہنچوں گا صحن باغ میں شبنم رتوں کے ساتھ

    سوکھے ہوئے گلوں میں عرق چھوڑ جاؤں گا

    ہر سو لگیں گے مجھ سے صداقت کے اشتہار

    ہر سو محبتوں کے سبق چھوڑ جاؤں گا

    ساجدؔ گلاب چال چلوں گا روش روش

    دھرتی پہ گلستان شفق چھوڑ جاؤں گا

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    اقبال ساجد

    اقبال ساجد

    مآخذ:

    • Book: kulliyat-e-iqbaal saajid (Pg. 137)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY