تعمیر ہم نے کی تھی ہمیں نے گرا دیے

نشتر خانقاہی

تعمیر ہم نے کی تھی ہمیں نے گرا دیے

نشتر خانقاہی

MORE BY نشتر خانقاہی

    تعمیر ہم نے کی تھی ہمیں نے گرا دیے

    شب کو محل بنائے سویرے گرا دیے

    کمزور جو ہوئے ہوں وہ رشتے کسے عزیز

    پیلے پڑے تو شاخ نے پتے گرا دیے

    اب تک ہماری عمر کا بچپن نہیں گیا

    گھر سے چلے تھے جیب کے پیسے گرا دیے

    پتھر سے دل کی آگ سنبھالی نہیں گئی

    پہنچی ذرا سی چوٹ پتنگے گرا دیے

    برسوں ہوئے تھے جن کی تہیں کھولتے ہوئے

    اپنی نظر سے ہم نے وہ چہرے گرا دیے

    شہر طرب میں رات ہوا تیز تھی بہت

    کاندھوں سے مہ وشوں کے دوپٹے گرا دیے

    تاب نظر کو حوصلہ ملنا ہی تھا کبھی

    کیوں تم نے احتیاط میں پردے گرا دیے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    تعمیر ہم نے کی تھی ہمیں نے گرا دیے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY