تمام کھیل تماشوں کے درمیان وہی

اسلم عمادی

تمام کھیل تماشوں کے درمیان وہی

اسلم عمادی

MORE BYاسلم عمادی

    تمام کھیل تماشوں کے درمیان وہی

    وہ میرا دشمن جاں یعنی مہربان وہی

    ہزار راستے بدلے ہزار سوانگ رچے

    مگر ہے رقص میں سر پر اک آسمان وہی

    سبھی کو اس کی اذیت کا ہے یقین مگر

    ہمارے شہر میں ہے رسم امتحان وہی

    تمہارے درد سے جاگے تو ان کی قدر کھلی

    وگرنہ پہلے بھی اپنے تھے جسم و جان وہی

    وہی حروف وہی اپنے بے اثر فقرے

    وہی بجھے ہوئے موضوع اور بیان وہی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY