تمام راستہ پھولوں بھرا ہے میرے لیے

راجیندر منچندا بانی

تمام راستہ پھولوں بھرا ہے میرے لیے

راجیندر منچندا بانی

MORE BYراجیندر منچندا بانی

    تمام راستہ پھولوں بھرا ہے میرے لیے

    کہیں تو کوئی دعا مانگتا ہے میرے لیے

    تمام شہر ہے دشمن تو کیا ہے میرے لیے

    میں جانتا ہوں ترا در کھلا ہے میرے لیے

    مجھے بچھڑنے کا غم تو رہے گا ہم سفرو

    مگر سفر کا تقاضا جدا ہے میرے لیے

    وہ ایک عکس کہ پل بھر نظر میں ٹھہرا تھا

    تمام عمر کا اب سلسلہ ہے میرے لیے

    عجیب درگزری کا شکار ہوں اب تک

    کوئی کرم ہے نہ کوئی سزا ہے میرے لیے

    گزر سکوں گا نہ اس خواب خواب بستی سے

    یہاں کی مٹی بھی زنجیر پا ہے میرے لیے

    اب آپ جاؤں تو جا کر اسے سمیٹوں میں

    تمام سلسلہ بکھرا پڑا ہے میرے لیے

    یہ حسن ختم سفر یہ طلسم خانۂ رنگ

    کہ آنکھ جھپکوں تو منظر نیا ہے میرے لیے

    یہ کیسے کوہ کے اندر میں دفن تھا بانیؔ

    وہ ابر بن کے برستا رہا ہے میرے لیے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    تمام راستہ پھولوں بھرا ہے میرے لیے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY