طنز کے تیر مری سمت چلاتے کیوں ہو

لئیق عاجز

طنز کے تیر مری سمت چلاتے کیوں ہو

لئیق عاجز

MORE BYلئیق عاجز

    طنز کے تیر مری سمت چلاتے کیوں ہو

    تم اگر دوست ہو تو دل کو دکھاتے کیوں ہو

    دیکھ لے یہ بھی زمانہ کہ ہو تم کتنے امیر

    اپنی پلکوں کے نگینے کو چھپاتے کیوں ہو

    اے مرے پاؤں کے چھالو مرے ہمراہ رہو

    امتحاں سخت ہے تم چھوڑ کے جاتے کیوں ہو

    تشنگی سے مری برسوں کی شناسائی ہے

    بیچ میں نہر کی دیوار اٹھاتے کیوں ہو

    میری تاریک شبوں میں ہے اجالا ان سے

    چاند سے زخموں پہ مرہم یہ لگاتے کیوں ہو

    اس سے جب عہد وفا کر ہی لیا ہے عاجزؔ

    بے وفا کہہ کے اسے اشک بہاتے کیوں ہو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY