تپتے صحراؤں کی سوغات لیے بیٹھا ہے

حامد مختار حامد

تپتے صحراؤں کی سوغات لیے بیٹھا ہے

حامد مختار حامد

MORE BYحامد مختار حامد

    تپتے صحراؤں کی سوغات لیے بیٹھا ہے

    پیاسی آنکھوں میں وہ برسات لیے بیٹھا ہے

    چند مسلے ہوئے صفحات لیے بیٹھا ہے

    گھر کا بوڑھا جو روایات لیے بیٹھا ہے

    عمر ہی تیری گزر جائے گی ان کے حل میں

    تیرا بچہ جو سوالات لیے بیٹھا ہے

    زلف شب رنگ پہ رنگین کشیدہ آنچل

    وہ کوئی تاروں بھری رات لیے بیٹھا ہے

    تو بہادر ہے مگر ہیچ ہے اس کے آگے

    ایک بزدل جو تری بات لیے بیٹھا ہے

    کیسے کہہ دوں کہ اسے جینے کا حق ہے حامدؔ

    دل میں جو لاشۂ جذبات لیے بیٹھا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY