پھول سونگھے جانے کیا یاد آ گیا

اختر انصاری

پھول سونگھے جانے کیا یاد آ گیا

اختر انصاری

MORE BYاختر انصاری

    پھول سونگھے جانے کیا یاد آ گیا

    دل عجب انداز سے لہرا گیا

    اس سے پوچھے کوئی چاہت کے مزے

    جس نے چاہا اور جو چاہا گیا

    ایک لمحہ بن کے عیش جاوداں

    میری ساری زندگی پر چھا گیا

    غنچۂ دل ہائے کیسا غنچہ تھا

    جو کھلا اور کھلتے ہی مرجھا گیا

    رو رہا ہوں موسم گل دیکھ کر

    میں سمجھتا تھا مجھے صبر آ گیا

    یہ ہوا یہ برگ گل کا اہتزاز

    آج میں راز مسرت پا گیا

    اخترؔ اب برسات رخصت ہو گئی

    اب ہمارا رات کا رونا گیا

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY