تسکین دل محزوں نہ ہوئی وہ سعئ کرم فرما بھی گئے

اسرار الحق مجاز

تسکین دل محزوں نہ ہوئی وہ سعئ کرم فرما بھی گئے

اسرار الحق مجاز

MORE BYاسرار الحق مجاز

    دلچسپ معلومات

    اِِس غزل کے آخری شعر کا اولی عام طور پر غلط پڑھا اور گایا جاتا ہے۔ یہ مصرع 'اِِس محفل کیف ومستی میں' نہ ہو کر 'اُس محفل کیف و مستی میں اُس انجمنِ عرفانی میں' ہے۔

    تسکین دل محزوں نہ ہوئی وہ سعئ کرم فرما بھی گئے

    اس سعئ کرم کو کیا کہیے بہلا بھی گئے تڑپا بھی گئے

    ہم عرض وفا بھی کر نہ سکے کچھ کہہ نہ سکے کچھ سن نہ سکے

    یاں ہم نے زباں ہی کھولی تھی واں آنکھ جھکی شرما بھی گئے

    آشفتگیٔ وحشت کی قسم حیرت کی قسم حسرت کی قسم

    اب آپ کہیں کچھ یا نہ کہیں ہم راز تبسم پا بھی گئے

    روداد غم الفت ان سے ہم کیا کہتے کیوں کر کہتے

    اک حرف نہ نکلا ہونٹوں سے اور آنکھ میں آنسو آ بھی گئے

    ارباب جنوں پر فرقت میں اب کیا کہئے کیا کیا گزری

    آئے تھے سواد الفت میں کچھ کھو بھی گئے کچھ پا بھی گئے

    یہ رنگ بہار عالم ہے کیوں فکر ہے تجھ کو اے ساقی

    محفل تو تری سونی نہ ہوئی کچھ اٹھ بھی گئے کچھ آ بھی گئے

    اس محفل کیف و مستی میں اس انجمن عرفانی میں

    سب جام بکف بیٹھے ہی رہے ہم پی بھی گئے چھلکا بھی گئے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    جگجیت سنگھ

    جگجیت سنگھ

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق,

    فہد حسین

    فہد حسین,

    نعمان شوق

    تسکین دل محزوں نہ ہوئی وہ سعئ کرم فرما بھی گئے نعمان شوق

    فہد حسین

    تسکین دل محزوں نہ ہوئی وہ سعئ کرم فرما بھی گئے فہد حسین

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے