توبہ کی نازشوں پہ ستم ڈھا کے پی گیا

احسان دانش

توبہ کی نازشوں پہ ستم ڈھا کے پی گیا

احسان دانش

MORE BY احسان دانش

    توبہ کی نازشوں پہ ستم ڈھا کے پی گیا

    ''پی''! اس نے جب کہا تو میں گھبرا کے پی گیا

    دل ہی تو ہے اٹھائے کہاں تک غم و الم

    میں روز کے ملال سے اکتا کے پی گیا

    تھیں لاکھ گرچہ محشر و مرقد کی الجھنیں

    گتھی کو ضبط شوق کی سلجھا کے پی گیا

    مے خانۂ بہار میں مدت کا تشنہ لب

    ساقی خطا معاف! خطا کھا کے پی گیا

    نیت نہیں خراب نہ عادی ہوں اے ندیم!

    ''آلام روزگار سے تنگ آ کے پی گیا''!

    ساقی کے حسن دیدۂ میگوں کے سامنے

    میں جلوۂ بہشت کو ٹھکرا کے پی گیا

    اٹھا جو ابر دل کی امنگیں چمک اٹھیں

    لہرائیں بجلیاں تو میں لہرا کے پی گیا

    دل کچھ ثبوت حفظ شریعت نہ دے سکا

    ساقی کے لطف خاص پہ اترا کے پی گیا

    مآخذ:

    • کتاب : ghazluyat-e-ehsaan daanish (Pg. 99)
    • Author : shbanam parveen
    • مطبع : asgar publicatin (2006)
    • اشاعت : 2006

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY