تیری محفل بھی مداوا نہیں تنہائی کا

احمد ندیم قاسمی

تیری محفل بھی مداوا نہیں تنہائی کا

احمد ندیم قاسمی

MORE BY احمد ندیم قاسمی

    تیری محفل بھی مداوا نہیں تنہائی کا

    کتنا چرچا تھا تری انجمن آرائی کا

    داغ دل نقش ہے اک لالۂ صحرائی کا

    یہ اثاثہ ہے مری بادیہ پیمائی کا

    جب بھی دیکھا ہے تجھے عالم نو دیکھا ہے

    مرحلہ طے نہ ہوا تیری شناسائی کا

    وہ ترے جسم کی قوسیں ہوں کہ محراب حرم

    ہر حقیقت میں ملا خم تری انگڑائی کا

    افق ذہن پہ چمکا ترا پیمان وصال

    چاند نکلا ہے مرے عالم تنہائی کا

    بھری دنیا میں فقط مجھ سے نگاہیں نہ چرا

    عشق پر بس نہ چلے گا تری دانائی کا

    ہر نئی بزم تری یاد کا ماحول بنی

    میں نے یہ رنگ بھی دیکھا تری یکتائی کا

    نالہ آتا ہے جو لب پر تو غزل بنتا ہے

    میرے فن پر بھی ہے پرتو تری رعنائی کا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    تیری محفل بھی مداوا نہیں تنہائی کا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY