تیز احساس خودی درکار ہے

فراق گورکھپوری

تیز احساس خودی درکار ہے

فراق گورکھپوری

MORE BYفراق گورکھپوری

    تیز احساس خودی درکار ہے

    زندگی کو زندگی درکار ہے

    جو چڑھا جائے خمستان جہاں

    ہاں وہی لب تشنگی درکار ہے

    دیوتاؤں کا خدا سے ہوگا کام

    آدمی کو آدمی درکار ہے

    سو گلستاں جس اداسی پر نثار

    مجھ کو وہ افسردگی درکار ہے

    شاعری ہے سربسر تہذیب‌ قلب

    اس کو غم شائستگی درکار ہے

    شعلہ میں لاتا ہے جو سوز و گداز

    وہ خلوص باطنی درکار ہے

    خوبیٔ لفظ و بیاں سے کچھ سوا

    شاعری کو ساحری درکار ہے

    قادر مطلق کو بھی انسان کی

    سنتے ہیں بے چارگی درکار ہے

    اور ہوں گے طالب مدح جہاں

    مجھ کو بس تیری خوشی درکار ہے

    عقل میں یوں تو نہیں کوئی کمی

    اک ذرا دیوانگی درکار ہے

    ہوش والوں کو بھی میری رائے میں

    ایک گونہ بے خودی درکار ہے

    خطرۂ بسیار دانی کی قسم

    علم میں بھی کچھ کمی درکار ہے

    دوستو کافی نہیں چشم خرد

    عشق کو بھی روشنی درکار ہے

    میری غزلوں میں حقائق ہیں فقط

    آپ کو تو شاعری درکار ہے

    تیرے پاس آیا ہوں کہنے ایک بات

    مجھ کو تیری دوستی درکار ہے

    میں جفاؤں کا نہ کرتا یوں گلہ

    آج تیری ناخوشی درکار ہے

    اس کی زلف آراستہ پیراستہ

    اک ذرا سی برہمی درکار ہے

    زندہ دل تھا تازہ دم تھا ہجر میں

    آج مجھ کو بے دلی درکار ہے

    حلقہ حلقہ گیسوئے شب رنگ یار

    مجھ کو تیری ابتری درکار ہے

    عقل نے کل میرے کانوں میں کہا

    مجھ کو تیری زندگی درکار ہے

    تیز رو تہذیب عالم کو فراقؔ

    اک ذرا آہستگی درکار ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY