تھی جواں رات دن سنہرے تھے
تھی جواں رات دن سنہرے تھے
اور اندھیرے بھی کتنے اجلے تھے
چاہتیں تھیں نئی نئی اپنی
دل کے ارمان بھی نویلے تھے
تھیں غنودہ سی میری آنکھیں بھی
زلف میں خوشبوؤں کے ڈیرے تھے
حسرتیں شوخ تتلیوں جیسی
ڈالیاں تھیں کہ ہاتھ پھیلے تھے
دھند کی تھیں ردائیں پیڑوں پر
صاف شفاف بہتے جھرنے تھے
بانٹ لیں گے نصیب کے سکھ بھی
ہم نے دکھ درد ساتھ جھیلے تھے
وہ لڑکپن کے دن کہاں گئے جو
دل کی وادی میں آ کے ٹھہرے تھے
بد گماں تھی دھنک بھی تمثیلہؔ
اتنے رنگین اپنے سپنے تھے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.