تھی نیند میری مگر اس میں خواب اس کا تھا

وزیر آغا

تھی نیند میری مگر اس میں خواب اس کا تھا

وزیر آغا

MORE BY وزیر آغا

    تھی نیند میری مگر اس میں خواب اس کا تھا

    بدن مرا تھا بدن میں عذاب اس کا تھا

    سفینے چند خوشی کے ضرور اپنے تھے

    مگر وہ سیل غم بے حساب اس کا تھا

    دئیے بجھے تو ہوا کو کیا گیا بد نام

    قصور ہم نے کیا احتساب اس کا تھا

    یہ کس حساب سے کی تو نے روشنی تقسیم

    ستارے مجھ کو ملے ماہتاب اس کا تھا

    فلک پہ کرچیاں آنکھوں میں موتیا آنسو

    جو ریزہ ریزہ ہوا آفتاب اس کا تھا

    مری ذرا سی چمک کو کڑک نے ٹوک دیا

    سوال تجھ سے کیا تھا جواب اس کا تھا

    کھلی کتاب تھی پھولوں بھری زمیں میری

    کتاب میری تھی رنگ کتاب اس کا تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY