تھی تتلیوں کے تعاقب میں زندگی میری

اختر ہوشیارپوری

تھی تتلیوں کے تعاقب میں زندگی میری

اختر ہوشیارپوری

MORE BYاختر ہوشیارپوری

    تھی تتلیوں کے تعاقب میں زندگی میری

    وہ شہر کیا ہوا جس کی تھی ہر گلی میری

    میں اپنی ذات کی تشریح کرتا پھرتا تھا

    نہ جانے پھر کہاں آواز کھو گئی میری

    یہ سرگزشت زمانہ یہ داستان حیات

    ادھوری بات میں بھی رہ گئی کمی میری

    ہوائے کوہ ندا اک ذرا ٹھہر کہ ابھی

    زمانہ غور سے سنتا ہے ان کہی میری

    میں اتنے زور سے چیخا چٹخ گیا ہے بدن

    پھر اس کے بعد کسی نے نہیں سنی میری

    یہ درمیاں کا خلا ہی مرا نہیں ورنہ

    یہ آسمان بھی میرا زمین بھی میری

    کسے خبر کہ گہر کیسے ہاتھ آتے ہیں

    سمندروں سے بھی گہری ہے خامشی میری

    کوئی تو آئے مرے پاس دو گھڑی بیٹھے

    کہ کر گئی مجھے تنہا خود آگہی میری

    کبھی کبھی تو زمانہ رہا نگاہوں میں

    کبھی کبھی نظر آئی نہ شکل بھی میری

    مجھے خبر ہے کہاں ہوں میں کون ہوں اخترؔ

    کہ میرے نام سے صورت گری ہوئی میری

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY