تھوڑی دیر کو جی بہلا تھا

ناصر کاظمی

تھوڑی دیر کو جی بہلا تھا

ناصر کاظمی

MORE BYناصر کاظمی

    تھوڑی دیر کو جی بہلا تھا

    پھر تری یاد نے گھیر لیا تھا

    یاد آئی وہ پہلی بارش

    جب تجھے ایک نظر دیکھا تھا

    ہرے گلاس میں چاند کے ٹکڑے

    لال صراحی میں سونا تھا

    چاند کے دل میں جلتا سورج

    پھول کے سینے میں کانٹا تھا

    کاغذ کے دل میں چنگاری

    خس کی زباں پر انگارہ تھا

    دل کی صورت کا اک پتا

    تیری ہتھیلی پر رکھا تھا

    شام تو جیسے خواب میں گزری

    آدھی رات نشہ ٹوٹا تھا

    شہر سے دور ہرے جنگل میں

    بارش نے ہمیں گھیر لیا تھا

    صبح ہوئی تو سب سے پہلے

    میں نے تیرا منہ دیکھا تھا

    دیر کے بعد مرے آنگن میں

    سرخ انار کا پھول کھلا تھا

    دیر کے مرجھائے پیڑوں کو

    خوشبو نے آباد کیا تھا

    شام کی گہری اونچائی سے

    ہم نے دریا کو دیکھا تھا

    یاد آئیں کچھ ایسی باتیں

    میں جنہیں کب کا بھول چکا تھا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    تھوڑی دیر کو جی بہلا تھا نعمان شوق

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY