تری گلی میں تماشا کیے زمانہ ہوا

قیصر الجعفری

تری گلی میں تماشا کیے زمانہ ہوا

قیصر الجعفری

MORE BY قیصر الجعفری

    تری گلی میں تماشا کیے زمانہ ہوا

    پھر اس کے بعد نہ آنا ہوا نہ جانا ہوا

    کچھ اتنا ٹوٹ کے چاہا تھا میرے دل نے اسے

    وہ شخص میری مروت میں بے وفا نہ ہوا

    ہوا خفا تھی مگر اتنی سنگ دل بھی نہ تھی

    ہمیں کو شمع جلانے کا حوصلہ نہ ہوا

    مرے خلوص کی صیقل گری بھی ہار گئی

    وہ جانے کون سا پتھر تھا آئینہ نہ ہوا

    میں زہر پیتا رہا زندگی کے ہاتھوں سے

    یہ اور بات ہے میرا بدن ہرا نہ ہوا

    شعور چاہئے ترتیب خار و خس کے لیے

    قفس کو توڑ کے رکھا تو آشیانہ ہوا

    ہمارے گاؤں کی مٹی ہی ریت جیسی تھی

    یہ ایک رات کا سیلاب تو بہانہ ہوا

    کسی کے ساتھ گئیں دل کی دھڑکنیں قیصرؔ

    پھر اس کے بعد محبت کا حادثہ نہ ہوا

    مآخذ:

    • کتاب : Agar Darya Mila Hota (Pg. 106)
    • Author : Qaisar-ul-Jafari
    • مطبع : Faran Publishers Mumbai (2005)
    • اشاعت : 2005

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY