تم اتنی عداوت جو مرے یار کرو ہو
تم اتنی عداوت جو مرے یار کرو ہو
خود اپنی مصیبت مرے سرکار کرو ہو
تم کان بھی بھر لیتے ہو بس بات بنا کر
تم اپنی فضیحت سر بازار کرو ہو
تم آج تو چپ رہ لو مری بات کو سن کر
ہر بات پہ تم کس لیے تکرار کرو ہو
کیا دل کا لگانا بھی یہاں جرم ہے کوئی
کیوں گندی سیاست اے مرے یار کرو ہو
ممکن ہو تو آنگن کی یہ دیوار ہٹا دو
کیوں بھائیوں کے بیچ میں دیوار کرو ہو
تم نے نہیں دیکھا ہے نہ ہم نے کہیں دیکھا
تم کر کے سیاست ہمیں بیمار کرو ہو
چاہا نہ کبھی دام ملے اور نہ درجہ
اب شمبھوؔ کہے کیوں نہیں تم یار کرو ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.