تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں

قتیل شفائی

تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں

قتیل شفائی

MORE BYقتیل شفائی

    تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں

    ایک ذرا سا دل ٹوٹا ہے اور تو کوئی بات نہیں

    کس کو خبر تھی سانولے بادل بن برسے اڑ جاتے ہیں

    ساون آیا لیکن اپنی قسمت میں برسات نہیں

    ٹوٹ گیا جب دل تو پھر یہ سانس کا نغمہ کیا معنی

    گونج رہی ہے کیوں شہنائی جب کوئی بارات نہیں

    غم کے اندھیارے میں تجھ کو اپنا ساتھی کیوں سمجھوں

    تو پھر تو ہے میرا تو سایہ بھی میرے ساتھ نہیں

    مانا جیون میں عورت اک بار محبت کرتی ہے

    لیکن مجھ کو یہ تو بتا دے کیا تو عورت ذات نہیں

    ختم ہوا میرا فسانہ اب یہ آنسو پونچھ بھی لو

    جس میں کوئی تارا چمکے آج کی رات وہ رات نہیں

    میرے غمگیں ہونے پر احباب ہیں یوں حیران قتیلؔ

    جیسے میں پتھر ہوں میرے سینے میں جذبات نہیں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    جگجیت سنگھ

    جگجیت سنگھ

    نامعلوم

    نامعلوم

    بھوپندر سنگھ

    بھوپندر سنگھ

    نامعلوم

    نامعلوم

    متفرق

    متفرق

    مأخذ :
    • کتاب : kalam-e-qateel shifai (Pg. 119)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY