تمہاری یاد میں ہم جشن غم منائیں بھی

کشور ناہید

تمہاری یاد میں ہم جشن غم منائیں بھی

کشور ناہید

MORE BY کشور ناہید

    تمہاری یاد میں ہم جشن غم منائیں بھی

    کسی طرح سے مگر تم کو یاد آئیں بھی

    چھلک ہی پڑتے ہیں خود ہی گلاب آنکھوں کے

    وہ پاس آئیں تو یہ داستاں سنائیں بھی

    ہر ایک لمحہ یہی بیکلی سی ہے دل میں

    کہ ان کو یاد کریں ان کو بھول جائیں بھی

    جوان گیہوں کے کھیتوں کو دیکھ کر رو دیں

    وہ لڑکیاں کہ جنہیں بھول بیٹھیں مائیں بھی

    تمام عمر یوں ہی رتجگوں سے کیا حاصل

    انہیں بھلائیں ذرا نیند کو بلائیں بھی

    سکون ملتا ہے جلتی ہوئی دوپہروں میں

    بنی ہیں مرہم دل دھوپ کی شعاعیں بھی

    روا روی میں ہے ہر ایک صحبت یاراں

    ملیں سکوں سے تو قصے ترے سنائیں بھی

    وہ جن کے ذکر سے ناہیدؔ زندگی ہے حسیں

    وہ لوگ آئیں تو آنکھوں پہ ہم بٹھائیں بھی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY