تو مجھ کو جو اس شہر میں لایا نہیں ہوتا

فرحت احساس

تو مجھ کو جو اس شہر میں لایا نہیں ہوتا

فرحت احساس

MORE BYفرحت احساس

    تو مجھ کو جو اس شہر میں لایا نہیں ہوتا

    میں بے سر و ساماں کبھی رسوا نہیں ہوتا

    اس کی تو یہ عادت ہے کسی کا نہیں ہوتا

    پھر اس میں عجب کیا کہ ہمارا نہیں ہوتا

    کچھ پیڑ بھی بے فیض ہیں اس راہ گزر کے

    کچھ دھوپ بھی ایسی ہے کہ سایا نہیں ہوتا

    خوابوں میں جو اک شہر بنا دیتا ہے مجھ کو

    جب آنکھ کھلی ہو تو وہ چہرا نہیں ہوتا

    کس کی ہے یہ تصویر جو بنتی نہیں مجھ سے

    میں کس کا تقاضا ہوں کہ پورا نہیں ہوتا

    میں شہر میں کس شخص کو جینے کی دعا دوں

    جینا بھی تو سب کے لیے اچھا نہیں ہوتا

    RECITATIONS

    فرحت احساس

    فرحت احساس

    فرحت احساس

    تو مجھ کو جو اس شہر میں لایا نہیں ہوتا فرحت احساس

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY