تو سمجھتا ہے حوادث ہیں ستانے کے لیے

سید صادق حسین

تو سمجھتا ہے حوادث ہیں ستانے کے لیے

سید صادق حسین

MORE BYسید صادق حسین

    INTERESTING FACT

    عام طور پردوسرا شعر علامہ اقبال سے منسوب ہے ۔ مگر در حقیقت یہ سید صادق حسین کی غزل کا شعر ہے ۔۔جو ان کے مجموعے ''برگ سبز'' میں شامل ہے اور یہ کتاب 1918 میں شائع ہوئی تھی

    تو سمجھتا ہے حوادث ہیں ستانے کے لیے

    یہ ہوا کرتے ہیں ظاہر آزمانے کے لیے

    تندیٔ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب

    یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے

    کامیابی کی ہوا کرتی ہے ناکامی دلیل

    رنج آتے ہیں تجھے راحت دلانے کے لیے

    چرخ کج‌ رفتار ہے پھر مائل جور و ستم

    بجلیاں شاہد ہیں خرمن کو جلانے کے لیے

    نیم جاں ہے کس لیے حال خلافت دیکھ کر

    ڈھونڈ لے کوئی دوا اس کو بچانے کے لیے

    چین سے رہنے نہ دے ان کو نہ خود آرام کر

    مستعد ہیں جو خلافت کو مٹانے کے لیے

    دست و پا رکھتے ہیں اور بیکار کیوں بیٹھے رہیں

    ہم اٹھیں گے اپنی قسمت کو بنانے کے لیے

    موضوعات:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY