طوفان کی امید تھی آندھی نہیں آئی

خرم آفاق

طوفان کی امید تھی آندھی نہیں آئی

خرم آفاق

MORE BYخرم آفاق

    طوفان کی امید تھی آندھی نہیں آئی

    وہ آپ تو کیا اس کی خبر بھی نہیں آئی

    کچھ آنکھوں میں تو ہو گیا آباد وہ چہرہ

    کچھ بستیوں میں آج بھی بجلی نہیں آئی

    ہر روز پلٹ آتے تھے مہمان کسی کے

    ہر روز یہ کہتے تھے کہ گاڑی نہیں آئی

    وہ آگ بجھی تو ہمیں موسم نے جھنجھوڑا

    ورنہ یہی لگتا تھا کہ سردی نہیں آئی

    شاید وہ محبت کے لئے ٹھیک نہیں تھا

    شاید یہ انگوٹھی اسے پوری نہیں آئی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY