اداسی آسماں ہے دل مرا کتنا اکیلا ہے

بشیر بدر

اداسی آسماں ہے دل مرا کتنا اکیلا ہے

بشیر بدر

MORE BY بشیر بدر

    اداسی آسماں ہے دل مرا کتنا اکیلا ہے

    پرندہ شام کے پل پر بہت خاموش بیٹھا ہے

    میں جب سو جاؤں ان آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دینا

    یقیں آ جائے گا پلکوں تلے بھی دل دھڑکتا ہے

    تمہارے شہر کے سارے دیے تو سو گئے کب کے

    ہوا سے پوچھنا دہلیز پہ یہ کون جلتا ہے

    اگر فرصت ملے پانی کی تحریروں کو پڑھ لینا

    ہر اک دریا ہزاروں سال کا افسانہ لکھتا ہے

    کبھی میں اپنے ہاتھوں کی لکیروں سے نہیں الجھا

    مجھے معلوم ہے قسمت کا لکھا بھی بدلتا ہے

    مآخذ:

    • Book : Aahat (Pg. 51)
    • Author : Bashir Badar
    • مطبع : M.R Publications (2011)
    • اشاعت : 2011

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY