اجالا دشت جنوں میں بڑھانا پڑتا ہے

اظہر عنایتی

اجالا دشت جنوں میں بڑھانا پڑتا ہے

اظہر عنایتی

MORE BY اظہر عنایتی

    اجالا دشت جنوں میں بڑھانا پڑتا ہے

    کبھی کبھی ہمیں خیمہ جلانا پڑتا ہے

    یہ مسخروں کو وظیفے یوں ہی نہیں ملتے

    رئیس خود نہیں ہنستے ہنسانا پڑتا ہے

    بڑی عجیب یہ مجبوریاں سماج کی ہیں

    منافقوں سے تعلق نبھانا پڑتا ہے

    علاوہ راہ قلندر تمام دنیا میں

    کسی بھی راہ سے گزرو زمانہ پڑتا ہے

    شکستگی میں بھی کیا شان ہے عمارت کی

    کہ دیکھنے کو اسے سر اٹھانا پڑتا ہے

    کسی کے عیب چھپانا ثواب ہے لیکن

    کبھی کبھی کوئی پردہ اٹھانا پڑتا ہے

    غزل کا شعر تو ہوتا ہے بس کسی کے لیے

    مگر ستم ہے کہ سب کو سنانا پڑتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY