اس نے کوئی تو دم پڑھا ہوا ہے

جواد شیخ

اس نے کوئی تو دم پڑھا ہوا ہے

جواد شیخ

MORE BYجواد شیخ

    اس نے کوئی تو دم پڑھا ہوا ہے

    جس نے دیکھا وہ مبتلا ہوا ہے

    اب ترے راستے سے بچ نکلوں

    اک یہی راستہ بچا ہوا ہے

    آؤ تقریب رو نمائی کریں

    پاؤں میں ایک آبلہ ہوا ہے

    پھر وہی بحث چھیڑ دیتے ہو

    اتنی مشکل سے رابطہ ہوا ہے

    رات کی واردات مت پوچھو

    واقعی ایک واقعہ ہوا ہے

    لگ رہا ہے یہ نرم لہجے سے

    پھر تجھے کوئی مسئلہ ہوا ہے

    میں کہاں اور وہ فصیل کہاں

    فاصلے کا ہی فیصلہ ہوا ہے

    اتنا مصروف ہو گیا ہوں کہ بس

    میرؔ بھی اک طرف پڑا ہوا ہے

    آج کچھ بھی نہیں ہوا جوادؔ

    ہاں مگر ایک سانحہ ہوا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY