اس شام وہ رخصت کا سماں یاد رہے گا

ابن انشا

اس شام وہ رخصت کا سماں یاد رہے گا

ابن انشا

MORE BY ابن انشا

    اس شام وہ رخصت کا سماں یاد رہے گا

    وہ شہر وہ کوچہ وہ مکاں یاد رہے گا

    وہ ٹیس کہ ابھری تھی ادھر یاد رہے گی

    وہ درد کہ اٹھا تھا یہاں یاد رہے گا

    ہم شوق کے شعلے کی لپک بھول بھی جائیں

    وہ شمع فسردہ کا دھواں یاد رہے گا

    ہاں بزم شبانہ میں ہمہ شوق جو اس دن

    ہم تھے تری جانب نگراں یاد رہے گا

    کچھ میرؔ کے ابیات تھے کچھ فیضؔ کے مصرعے

    اک درد کا تھا جن میں بیاں یاد رہے گا

    آنکھوں میں سلگتی ہوئی وحشت کے جلو میں

    وہ حیرت و حسرت کا جہاں یاد رہے گا

    جاں بخش سی اس برگ گل تر کی تراوت

    وہ لمس عزیز دو جہاں یاد رہے گا

    ہم بھول سکے ہیں نہ تجھے بھول سکیں گے

    تو یاد رہے گا ہمیں ہاں یاد رہے گا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    اس شام وہ رخصت کا سماں یاد رہے گا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY