اسے بے چین کر جاؤں گا میں بھی

امیر قزلباش

اسے بے چین کر جاؤں گا میں بھی

امیر قزلباش

MORE BYامیر قزلباش

    اسے بے چین کر جاؤں گا میں بھی

    خموشی سے گزر جاؤں گا میں بھی

    مجھے چھونے کی خواہش کون کرتا ہے

    کہ پل بھر میں بکھر جاؤں گا میں بھی

    بہت پچھتائے گا وہ بچھڑ کر

    خدا جانے کدھر جاؤں گا میں بھی

    ذرا بدلوں گا اس بے منظری کو

    پھر اس کے بعد مر جاؤں گا میں بھی

    کسی دیوار کا خاموش سایہ

    پکارے تو ٹھہر جاؤں گا میں بھی

    پتہ اس کا تمہیں بھی کچھ نہیں ہے

    یہاں سے بے خبر جاؤں گا میں بھی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY