وعدوں ہی پہ ہر روز مری جان نہ ٹالو

مصحفی غلام ہمدانی

وعدوں ہی پہ ہر روز مری جان نہ ٹالو

مصحفی غلام ہمدانی

MORE BYمصحفی غلام ہمدانی

    وعدوں ہی پہ ہر روز مری جان نہ ٹالو

    ہے عید کا دن اب تو گلے ہم کو لگا لو

    ہر وقت میاں خوب نہیں گالیاں دینی

    کیا بکتے ہو تم یاوہ زباں اپنی سنبھالو

    پہنچے کو چھڑاؤ گے بڑے مرد ہو ایسے

    تم پہلے مرے ہاتھ سے دامن تو چھڑا لو

    دیوانے کا ہے تیرے یہ عالم کہ پری بھی

    دیکھ اس کو یہ کہتی ہے کوئی اس کو بلا لو

    اس شوخ کی آنکھوں کے جو جاتا ہوں مقابل

    کہتی ہیں نگاہیں کہ اسے مار ہی ڈالو

    یوں پھرتے ہو مقتل پہ شہیدان وفا کے

    دامن تو ذرا ہاتھ میں تم اپنے اٹھا لو

    جاں ڈالتا ہے مصحفیؔ قالب میں سخن کے

    مشکل ہے کہ تم اس کی طرح شعر تو ڈھالو

    گو زمزمۂ دہلی و کو لہجۂ پورب

    کیوں اس کی طرف ہوتے ہو ناحق کو رزالو

    مآخذ :
    • کتاب : kulliyat-e-mas.hafii(Vol-4)(pdf) (Pg. 231)
    • Author : Ghulam hamdani Mashafi
    • مطبع : Qaumi council baraye -farogh urdu (2005)
    • اشاعت : 2005

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY