وفا کی خیر مناتا ہوں بے وفائی میں بھی

افتخار عارف

وفا کی خیر مناتا ہوں بے وفائی میں بھی

افتخار عارف

MORE BYافتخار عارف

    وفا کی خیر مناتا ہوں بے وفائی میں بھی

    میں اس کی قید میں ہوں قید سے رہائی میں بھی

    لہو کی آگ میں جل بجھ گئے بدن تو کھلا

    رسائی میں بھی خسارہ ہے نارسائی میں بھی

    بدلتے رہتے ہیں موسم گزرتا رہتا ہے وقت

    مگر یہ دل کہ وہیں کا وہیں جدائی میں بھی

    لحاظ حرمت پیماں نہ پاس ہم خوابی

    عجب طرح کے تصادم تھے آشنائی میں بھی

    میں دس برس سے کسی خواب کے عذاب میں ہوں

    وہی عذاب در آیا ہے اس دہائی میں بھی

    تصادم دل و دنیا میں دل کی ہار کے بعد

    حجاب آنے لگا ہے غزل سرائی میں بھی

    میں جا رہا ہوں اب اس کی طرف اسی کی طرف

    جو میرے ساتھ تھا میری شکستہ پائی میں بھی

    RECITATIONS

    افتخار عارف

    افتخار عارف

    افتخار عارف

    وفا کی خیر مناتا ہوں بے وفائی میں بھی افتخار عارف

    مآخذ:

    • کتاب : Mahr-e-Do neem (Pg. 59)
    • Author : iftikhaar aarif

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY