وہی پیاس ہے وہی دشت ہے وہی گھرانا ہے

افتخار عارف

وہی پیاس ہے وہی دشت ہے وہی گھرانا ہے

افتخار عارف

MORE BYافتخار عارف

    وہی پیاس ہے وہی دشت ہے وہی گھرانا ہے

    مشکیزے سے تیر کا رشتہ بہت پرانا ہے

    صبح سویرے رن پڑنا ہے اور گھمسان کا رن

    راتوں رات چلا جائے جس جس کو جانا ہے

    ایک چراغ اور ایک کتاب اور ایک امید اثاثہ

    اس کے بعد تو جو کچھ ہے وہ سب افسانہ ہے

    دریا پر قبضہ تھا جس کا اس کی پیاس عذاب

    جس کی ڈھالیں چمک رہی تھیں وہی نشانہ ہے

    کاسۂ شام میں سورج کا سر اور آواز اذاں

    اور آواز اذاں کہتی ہے فرض نبھانا ہے

    سب کہتے ہیں اور کوئی دن یہ ہنگامۂ دہر

    دل کہتا ہے ایک مسافر اور بھی آنا ہے

    ایک جزیرہ اس کے آگے پیچھے سات سمندر

    سات سمندر پار سنا ہے ایک خزانہ ہے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    وہی پیاس ہے وہی دشت ہے وہی گھرانا ہے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY