وحشت دل نے کیا ہے وہ بیاباں پیدا

حیدر علی آتش

وحشت دل نے کیا ہے وہ بیاباں پیدا

حیدر علی آتش

MORE BYحیدر علی آتش

    وحشت دل نے کیا ہے وہ بیاباں پیدا

    سیکڑوں کوس نہیں صورت انساں پیدا

    سحر وصل کرے گی شب ہجراں پیدا

    صلب کافر ہی سے ہوتا ہے مسلماں پیدا

    دل کے آئینے میں کر جوہر پنہاں پیدا

    در و دیوار سے ہو صورت جاناں پیدا

    خار دامن سے الجھتے ہیں بہار آئی ہے

    چاک کرنے کو کیا گل نے گریباں پیدا

    نسبت اس دست نگاریں سے نہیں کچھ اس کو

    یہ کلائی تو کرے پنجۂ مرجاں پیدا

    نشۂ مے میں کھلی دشمنی دوست مجھے

    آب انگور نے کی آتش پنہاں پیدا

    باغ سنسان نہ کر ان کو پکڑ کر صیاد

    بعد مدت ہوئے ہیں مرغ خوش الحاں پیدا

    اب قدم سے ہے مرے خانۂ زنجیر آباد

    مجھ کو وحشت نے کیا سلسلہ جنباں پیدا

    رو کے آنکھوں سے نکالوں میں بخار دل کو

    کر چکے ابر مژہ بھی کہیں باراں پیدا

    نعرہ زن کنج شہیداں میں ہو بلبل کی طرح

    آب آہن نے کیا ہے یہ گلستاں پیدا

    نقش ان کا نہ کسی لعل سے لب پر بیٹھا

    میرے منہ میں ہوئے تھے کس لیے دنداں پیدا

    خوف نا فہمی مردم سے مجھے آتا ہے

    گاؤ خر ہونے لگے صورت انساں پیدا

    روح کی طرح سے داخل ہو جو دیوانہ ہے

    جسم خاکی سمجھ اس کو جو ہو زنداں پیدا

    بے حجابوں کا مگر شہر ہے اقلیم عدم

    دیکھتا ہوں جسے ہوتا ہے وہ عریاں پیدا

    اک گل ایسا نہیں ہووے نہ خزاں جس کی بہار

    کون سے وقت ہوا تھا یہ گلستاں پیدا

    موجد اس کی ہے سیہ روزی ہماری آتشؔ

    ہم نہ ہونے تو نہ ہوتی شب ہجراں پیدا

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    مہدی حسن

    مہدی حسن

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY