وحشتیں بھی کتنی ہیں آگہی کے پیکر میں

خوشبیر سنگھ شادؔ

وحشتیں بھی کتنی ہیں آگہی کے پیکر میں

خوشبیر سنگھ شادؔ

MORE BYخوشبیر سنگھ شادؔ

    وحشتیں بھی کتنی ہیں آگہی کے پیکر میں

    جل رہا ہے سورج بھی روشنی کے پیکر میں

    رات میری آنکھوں میں کچھ عجیب چہرے تھے

    اور کچھ صدائیں تھیں خامشی کے پیکر میں

    ہر طرف سرابوں کے کچھ حسین منظر تھے

    اور میں بھی حیراں تھا تشنگی کے پیکر میں

    میں نے تو تصور میں اور عکس دیکھا تھا

    فکر مختلف کیوں ہے شاعری کے پیکر میں

    روپ رنگ ملتا ہے خد و خال ملتے ہیں

    آدمی نہیں ملتا آدمی کے پیکر میں

    کیا بتائیں ہم دل پر شادؔ کیا گزرتی ہے

    غم چھپانا پڑتا ہے جب خوشی کے پیکر میں

    مآخذ:

    • کتاب : Zara ye Dhoop Dhal Jaye (Pg. 14)
    • Author : Khushbir Singh Shaad
    • مطبع : Suman Parkashan, Bhadoriya Complex, Lucknow (2005)
    • اشاعت : 2005

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY