وقت کا جھونکا جو سب پتے اڑا کر لے گیا

عرش صدیقی

وقت کا جھونکا جو سب پتے اڑا کر لے گیا

عرش صدیقی

MORE BYعرش صدیقی

    وقت کا جھونکا جو سب پتے اڑا کر لے گیا

    کیوں نہ مجھ کو بھی ترے در سے اٹھا کر لے گیا

    رات اپنے چاہنے والوں پہ تھا وہ مہرباں

    میں نہ جاتا تھا مگر وہ مجھ کو آ کر لے گیا

    ایک سیل بے اماں جو عاصیوں کو تھا سزا

    نیک لوگوں کے گھروں کو بھی بہا کر لے گیا

    میں نے دروازہ نہ رکھا تھا کہ ڈرتا تھا مگر

    گھر کا سرمایہ وہ دیواریں گرا کر لے گیا

    وہ عیادت کو تو آیا تھا مگر جاتے ہوئے

    اپنی تصویریں بھی کمرے سے اٹھا کر لے گیا

    میں جسے برسوں کی چاہت سے نہ حاصل کر سکا

    ایک ہم سایہ اسے کل ورغلا کر لے گیا

    سج رہی تھی جنس جو بازار میں اک عمر سے

    کل اسے اک شخص پردوں میں چھپا کر لے گیا

    میں کھڑا فٹ پاتھ پر کرتا رہا رکشا تلاش

    میرا دشمن اس کو موٹر میں بٹھا کر لے گیا

    سو رہا ہوں میں لیے خالی لفافہ ہاتھ میں

    اس میں جو مضموں تھا وہ قاصد چرا کر لے گیا

    رقص کے وقفے میں جب کرنے کو تھا میں عرض شوق

    کوئی اس کو میرے پہلو سے اٹھا کر لے گیا

    اے عذاب دوستی مجھ کو بتا میرے سوا

    کون تھا جو تجھ کو سینے سے لگا کر لے گیا

    مہرباں کیسے کہوں میں عرشؔ اس بے درد کو

    نور آنکھوں کا جو اک جلوہ دکھا کر لے گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY