وصل کی بنتی ہیں ان باتوں سے تدبیریں کہیں

حسرتؔ موہانی

وصل کی بنتی ہیں ان باتوں سے تدبیریں کہیں

حسرتؔ موہانی

MORE BY حسرتؔ موہانی

    وصل کی بنتی ہیں ان باتوں سے تدبیریں کہیں

    آرزوؤں سے پھرا کرتی ہیں تقدیریں کہیں

    بے زبانی ترجمان شوق بے حد ہو تو ہو

    ورنہ پیش یار کام آتی ہیں تقریریں کہیں

    مٹ رہی ہیں دل سے یادیں روزگار عیش کی

    اب نظر کاہے کو آئیں گی یہ تصویریں کہیں

    التفات یار تھا اک خواب آغاز وفا

    سچ ہوا کرتی ہیں ان خوابوں کی تعبیریں کہیں

    تیری بے صبری ہے حسرتؔ خامکاری کی دلیل

    گریۂ عشاق میں ہوتی ہیں تاثیریں کہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY