وہ عکس بن کے مری چشم تر میں رہتا ہے

بسمل صابری

وہ عکس بن کے مری چشم تر میں رہتا ہے

بسمل صابری

MORE BYبسمل صابری

    وہ عکس بن کے مری چشم تر میں رہتا ہے

    عجیب شخص ہے پانی کے گھر میں رہتا ہے

    وہی ستارہ شب غم کا اک ستارہ ہے

    وہ اک ستارہ جو چشم سحر میں رہتا ہے

    کھلی فضا کا پیامی ہوا کا باسی ہے

    کہاں وہ حلقۂ دیوار و در میں رہتا ہے

    جو میرے ہونٹوں پہ آئے تو گنگناؤں اسے

    وہ شعر بن کے بیاض نظر میں رہتا ہے

    گزرتا وقت مرا غم گسار کیا ہوگا

    یہ خود تعاقب شام و سحر میں رہتا ہے

    مرا ہی روپ ہے تو غور سے اگر دیکھے

    بگولہ سا جو تری رہ گزر میں رہتا ہے

    نہ جانے کون ہے جس کی تلاش میں بسملؔ

    ہر ایک سانس مرا اب سفر میں رہتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY