وہ ایک خیمۂ شب جس کا نام دنیا تھا

قیصر الجعفری

وہ ایک خیمۂ شب جس کا نام دنیا تھا

قیصر الجعفری

MORE BYقیصر الجعفری

    وہ ایک خیمۂ شب جس کا نام دنیا تھا

    کبھی دھواں تو کبھی چاندنی سا لگتا تھا

    ہماری آگ بھی تاپی ہمیں بجھا بھی دیا

    جہاں پڑاؤ کیا تھا عجیب صحرا تھا

    ہوا میں میری انا بھیگتی رہی ورنہ

    میں آشیانے میں برسات کاٹ سکتا تھا

    جو آسمان بھی ٹوٹا گرا مری چھت پر

    مرے مکاں سے کسی بد دعا کا رشتہ تھا

    تم آ گئے ہو خدا کا ثبوت ہے یہ بھی

    قسم خدا کی ابھی میں نے تم کو سوچا تھا

    زمیں پہ ٹوٹ کے کیسے گرا غرور اس کا

    ابھی ابھی تو اسے آسماں پہ دیکھا تھا

    بھنور لپیٹ کے نیچے اتر گیا شاید

    ابھی وہ شام سے پہلے ندی پہ بیٹھا تھا

    میں شاخ زرد کے ماتم میں رہ گیا قیصرؔ

    خزاں کا زہر شجر کی جڑوں میں پھیلا تھا

    مأخذ :
    • کتاب : Agar Darya Mila Hota (Pg. 48)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY