وہ ایک رو جو لب نکتہ چیں میں ہوتی ہے

عزیز حامد مدنی

وہ ایک رو جو لب نکتہ چیں میں ہوتی ہے

عزیز حامد مدنی

MORE BY عزیز حامد مدنی

    وہ ایک رو جو لب نکتہ چیں میں ہوتی ہے

    سخن وہی دل اندوہ گیں میں ہوتی ہے

    کوئی وہ شک کا اندھیرا کہ جس کی جست کے بعد

    چمک سی سلسلہ ہائے یقیں میں ہوتی ہے

    بہار چاک گریباں میں ٹھہر جاتی ہے

    جنوں کی موج کوئی آستیں میں ہوتی ہے

    وہ خاک انجم و مہتاب کو نصیب نہیں

    جو موج مرگ و نمو کی زمیں میں ہوتی ہے

    غنودہ دین بزرگاں میں اب وہ لو نہ رہی

    جو عہد نو کے غم آتشیں میں ہوتی ہے

    یہ رات طائر ہجرت زدہ غنیمت ہے

    طلوع صبح سواد کمیں میں ہوتی ہے

    کبھی کبھی تو حریفانہ کوئی آتش سنگ

    فروغ پا کے لباس نگیں میں ہوتی ہے

    مآخذ:

    • کتاب : Kulliyat-e-Aziz Hamid Madni (Pg. 420)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY