وہ ہے حیرت فزائے چشم معنی سب نظاروں میں
وہ ہے حیرت فزائے چشم معنی سب نظاروں میں
تڑپ بجلی میں اس کی اضطراب اس کا ستاروں میں
مدد اے اضطراب شوق تو جان تمنا ہے
نکل اے صبر تیرا کام کیا ہے بے قراروں میں
یہ کس کا نام لے کر جان دی بیمار الفت نے
یہ کس ظالم کا چرچا رہ گیا تیمارداروں میں
ذرا سی چھیڑ بھی کافی ہے مضراب محبت کی
کہ نغمے مضطرب ہیں بربط ہستی کے تاروں میں
کہاں کا شغل اب تو دور ہے خوننابۂ غم کا
وہی قسمت میں تھی جو پی چکے اگلی بہاروں میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.