وہ جو نہیں ہیں بزم میں بزم کی شان بھی نہیں

اثر رامپوری

وہ جو نہیں ہیں بزم میں بزم کی شان بھی نہیں

اثر رامپوری

MORE BY اثر رامپوری

    وہ جو نہیں ہیں بزم میں بزم کی شان بھی نہیں

    پھول ہیں دل کشی نہیں چاند ہے چاندنی نہیں

    ڈھونڈا نہ ہو جہاں انہیں ایسی جگہ کوئی نہیں

    پائی کچھ ان کی جب خبر اپنی خبر ملی نہیں

    آنکھ میں ہو پرکھ تو دیکھ حسن سے پر ہے کل جہاں

    تیری نظر کا ہے قصور جلووں کی کچھ کمی نہیں

    عشق میں شکوہ کفر ہے اور ہر التجا حرام

    توڑ دے کاسۂ مراد عشق گداگری نہیں

    جوش جنون عشق نے کام مرا بنا دیا

    اہل خرد کریں معاف حاجت آگہی نہیں

    اف یہ نشیلی انکھڑیاں ہائے یہ مستیٔ شباب

    مانا کہ تم نے پی نہیں کون کہے گا پی نہیں

    ہجر کی شب گزر گئی پھر بھی اثرؔ یہ حال ہے

    سامنے آفتاب ہے اور کہیں روشنی نہیں

    مآخذ:

    • Book : urdu kii chunii hu.ii gazale.n (Pg. 57)
    • Author : devendra issar
    • مطبع : sahityaa parkaashak maalbaara delhi (1963)
    • اشاعت : 1963

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY