وہ روشنی ہے کہاں جس کے بعد سایا نہیں

فارغ بخاری

وہ روشنی ہے کہاں جس کے بعد سایا نہیں

فارغ بخاری

MORE BY فارغ بخاری

    وہ روشنی ہے کہاں جس کے بعد سایا نہیں

    کسی نے آج تلک یہ سراغ پایا نہیں

    کہاں سے لاؤں وہ دل جو ترا برا چاہے

    عدوئے جاں ترا دکھ بھی کوئی پرایا نہیں

    تری صباحت صد رنگ میں بکھر جاؤں

    ابھی وہ لمحہ مری زندگی میں آیا نہیں

    ترے وجود پہ انگڑائی بن کے ٹوٹا ہے

    وہ نغمہ جو کسی مطرب نے گنگنایا نہیں

    نئی نویلی زمینوں کی سوندھی خوشبو میں

    وہ چاندنی ہے کہ جس میں کوئی نہایا نہیں

    ہم ایک فکر کے پیکر ہیں اک خیال کے پھول

    ترا وجود نہیں ہے تو میرا سایا نہیں

    وہ باب جس میں توانائیوں کی خوشبو ہے

    فسانہ ساز نے فارغؔ کبھی سنایا نہیں

    مآخذ:

    • Book : Beesveen Sadi Ki Behtareen Ishqiya Ghazlen (Pg. 167)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY