وہ سر سے پاؤں تک ہے غضب سے بھرا ہوا

آفتاب حسین

وہ سر سے پاؤں تک ہے غضب سے بھرا ہوا

آفتاب حسین

MORE BYآفتاب حسین

    وہ سر سے پاؤں تک ہے غضب سے بھرا ہوا

    میں بھی ہوں آج جوش طلب سے بھرا ہوا

    شورش مرے دماغ میں بھی کوئی کم نہیں

    یہ شہر بھی ہے شور و شغب سے بھرا ہوا

    ہاں اے ہوائے ہجر ہمیں کچھ خبر نہیں

    یہ شیشۂ نشاط ہے جب سے بھرا ہوا

    ملتا ہے آدمی ہی مجھے ہر مقام پر

    اور میں ہوں آدمی کی طلب سے بھرا ہوا

    ٹکراؤ جا کے صبح کے ساغر سے آفتابؔ

    دل کا یہ جام وعدۂ شب سے بھرا ہوا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    وہ سر سے پاؤں تک ہے غضب سے بھرا ہوا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY