وہ تازہ دم ہیں نئے شعبدے دکھاتے ہوئے

اظہر عنایتی

وہ تازہ دم ہیں نئے شعبدے دکھاتے ہوئے

اظہر عنایتی

MORE BY اظہر عنایتی

    وہ تازہ دم ہیں نئے شعبدے دکھاتے ہوئے

    عوام تھکنے لگے تالیاں بجاتے ہوئے

    سنبھل کے چلنے کا سارا غرور ٹوٹ گیا

    اک ایسی بات کہی اس نے لڑکھڑاتے ہوئے

    ابھارتی ہوئی جذبات کو یہ تصویریں

    یہ انقلاب ہمارے گھروں میں آتے ہوئے

    اسی لیے کہ کہیں ان کا قد نہ گھٹ جائے

    سلام کو بھی وہ ڈرتے ہیں ہاتھ اٹھاتے ہوئے

    اس آدمی نے بہت قہقہے لگائے ہیں

    یہ آدمی جو لرزتا ہے مسکراتے ہوئے

    جوان ہو گئی اک نسل سنتے سنتے غزل

    ہم اور ہو گئے بوڑھے غزل سناتے ہوئے

    ہوا اجالا تو ہم ان کے نام بھول گئے

    جو بجھ گئے ہیں چراغوں کی لو بڑھاتے ہوئے

    یہی اصول ہے اصلاح حال کا اظہرؔ

    کہ پرخلوص ہوں ہم خامیاں گناتے ہوئے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    اظہر عنایتی

    اظہر عنایتی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY