وہ تبسم تھا جہاں شاید وہیں پر رہ گیا

امتیاز خان

وہ تبسم تھا جہاں شاید وہیں پر رہ گیا

امتیاز خان

MORE BY امتیاز خان

    وہ تبسم تھا جہاں شاید وہیں پر رہ گیا

    میری آنکھوں کا ہر اک منظر کہیں پر رہ گیا

    میں تو ہو کر آ گیا آزاد اس کی قید سے

    دل مگر اس جلد بازی میں وہیں پر رہ گیا

    کون سجدوں میں نہاں ہے جو مجھے دکھتا نہیں

    کس کے بوسہ کا نشاں میری جبیں پر رہ گیا

    ہم کو اکثر یہ خیال آتا ہے اس کو دیکھ کر

    یہ ستارہ کیسے غلطی سے زمیں پر رہ گیا

    ہم لبوں کو کھول ہی کب پائے اس کے سامنے

    اک نیا الزام پھر دیکھو ہمیں پر رہ گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY