وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا

پروین شاکر

وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا

پروین شاکر

MORE BY پروین شاکر

    وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا

    مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا

    ہم تو سمجھے تھے کہ اک زخم ہے بھر جائے گا

    کیا خبر تھی کہ رگ جاں میں اتر جائے گا

    وہ ہواؤں کی طرح خانہ بجاں پھرتا ہے

    ایک جھونکا ہے جو آئے گا گزر جائے گا

    وہ جب آئے گا تو پھر اس کی رفاقت کے لیے

    موسم گل مرے آنگن میں ٹھہر جائے گا

    آخرش وہ بھی کہیں ریت پہ بیٹھی ہوگی

    تیرا یہ پیار بھی دریا ہے اتر جائے گا

    مجھ کو تہذیب کے برزخ کا بنایا وارث

    جرم یہ بھی مرے اجداد کے سر جائے گا

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    غلام علی

    غلام علی

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY