وسعت چشم کو اندوہ بصارت لکھا

عزم بہزاد

وسعت چشم کو اندوہ بصارت لکھا

عزم بہزاد

MORE BYعزم بہزاد

    وسعت چشم کو اندوہ بصارت لکھا

    میں نے اک وصل کو اک ہجر کی حالت لکھا

    میں نے لکھا کہ صف دل کبھی خالی نہ ہوئی

    اور خالی جو ہوئی بھی تو ملامت لکھا

    یہ سفر پاؤں ہلانے کا نہیں آنکھ کا ہے

    میں نے اس باب میں رکنے کو مسافت لکھا

    لکھنے والوں نے تو ہونے کا سبب لکھا ہے

    میں نے ہونے کو نہ ہونے کی وضاحت لکھا

    اشک اگر سب نے لکھے میں نے ستارے لکھے

    عاجزی سب نے لکھی میں نے عبادت لکھا

    میں نے خوشبو کو لکھا دسترس گمشدگی

    رنگ کو فاصلہ رکھنے کی رعایت لکھا

    زخم لکھنے کے لیے میں نے لکھی ہے غفلت

    خون لکھنا تھا مگر میں نے حرارت لکھا

    میں نے پرواز لکھی حد فلک سے آگے

    اور ہے بال و پری کو بھی نہایت لکھا

    حسن گویائی کو لکھنا تھا لکھی سرگوشی

    شور لکھنا تھا سو آزار سماعت لکھا

    اتنے دعووں سے گزر کر یہ خیال آتا ہے

    عزمؔ کیا تم نے کبھی حرف ندامت لکھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY