یار کیوں گریزاں ہے سیدھی راہ چلنے سے

قتیل شفائی

یار کیوں گریزاں ہے سیدھی راہ چلنے سے

قتیل شفائی

MORE BYقتیل شفائی

    یار کیوں گریزاں ہے سیدھی راہ چلنے سے

    منزلیں نہیں ملتیں راستے بدلنے سے

    جو بھی رنگ ہے تیرا بس وہی غنیمت ہے

    چہرے کب نکھرتے ہیں منہ پہ خاک ملنے سے

    تیز دھوپ میں آئی ایسی لہر سردی کی

    موم کا ہر اک پتلا بچ گیا پگھلنے سے

    بن گئے ثبوت آخر آپ اپنے جرموں کا

    ہاتھ جو معطر تھے پھول کو مسلنے سے

    کر سکا ہے گدلا کون روشنی کے چشمے کو

    چاند بجھ نہیں جاتا آندھیوں کے چلنے سے

    سو کے تو گنوا بیٹھا رتجگوں کی رعنائی

    اب قتیلؔ کیا حاصل تیرے ہاتھ ملنے سے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY